تقدیر پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے۔ ایمانِ مفصل کے چھ ارکان میں سے چھٹا رکن "ایمان بالقدر" یعنی تقدیر پر ایمان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان یہ یقین رکھے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے علم، ارادے اور حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ کوئی چیز اتفاقاً یا بغیر مشیتِ الٰہی کے نہیں ہوسکتی۔
تقدیر کا مفہوم
لفظ
"تقدیر" عربی زبان کے لفظ "قدر" سے نکلا ہے، جس کے معنی
"اندازہ لگانے" یا "مقدار مقرر کرنے" کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح
میں تقدیر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ، پیمانہ، وقت
اور انجام پہلے سے طے کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے ازل سے جان لیا ہے کہ کون کیا کرے گا، کس کا کیا انجام ہوگا، اور کون سی چیز کب
اور کیسے ظاہر ہوگی۔ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں پہلے سے موجود ہے اور لوحِ محفوظ
میں لکھا جا چکا ہے۔
تقدیر پر ایمان کے تقاضے
تقدیر پر
ایمان لانے کے چار بنیادی تقاضے ہیں:
- اللہ کے علم پر یقین:
یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے—چاہے وہ ماضی کی ہو، حال کی یا مستقبل کی۔ - تحریر پر ایمان:
یہ ایمان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ - مشیتِ الٰہی پر ایمان:
جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ - اللہ کی تخلیق پر ایمان:
بندوں کے اعمال بھی اللہ کی مخلوق ہیں، اگرچہ بندوں کو عمل کا اختیار دیا گیا ہے۔
قرآن و حدیث میں تقدیر کا ذکر
قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"إِنَّا كُلَّ
شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ"
)سورۃ القمر:
49(
ترجمہ: بے شک
ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) کے مطابق پیدا کیا ہے۔
اسی طرح نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:
"آدمی ایمان
والا نہیں ہوسکتا جب تک وہ تقدیرِ خیر و شر پر ایمان نہ لائے۔"
)ترمذی(
تقدیر اور انسانی اختیار
اسلام میں
تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مجبورِ محض ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار
دیا ہے کہ وہ اچھے یا برے اعمال میں سے کسی کو چنے، اور اسی اختیار پر اس سے
بازپرس ہوگی۔
اللہ تعالیٰ
نے انسان کو عقل، رہنمائی اور وحی دی تاکہ وہ نیکی کی راہ اختیار کرے۔ لہٰذا انسان
کے اعمال کا ذمہ دار وہ خود ہے۔
تقدیر پر ایمان کے فوائد
- اطمینانِ قلب:
انسان جانتا ہے کہ جو کچھ ہوا، وہ اللہ کی مشیت سے ہوا، اس لیے دل پرسکون رہتا ہے۔ - غرور سے بچاؤ:
کامیابی پر تکبر نہیں کرتا، کیونکہ جانتا ہے کہ یہ اللہ کی تقدیر اور توفیق سے ہے۔ - صبر و استقامت:
مصیبت میں صبر کرتا ہے، کیونکہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ کی ہر تقدیر میں بھلائی ہے۔ - شکر گزاری:
نعمت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ بھی تقدیر ہی کا حصہ ہے۔
نتیجہ
تقدیر پر
ایمان انسان کو ایک متوازن، پُرسکون اور مضبوط عقیدہ عطا کرتا ہے۔ یہ عقیدہ بندے
کو اللہ پر کامل بھروسہ، صبر، شکر اور عاجزی سکھاتا ہے۔ جو شخص تقدیر پر ایمان
رکھتا ہے، وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی ہر تقدیر
میں حکمت اور خیر پوشیدہ ہے۔
English