تقدیر پر ایمان کیا ہے؟

کل ملاحظات : 44
زوم ان دور کرنا بعد میں پڑھیں پرنٹ کریں بانٹیں

"ہر چیز اللہ کے علم، فیصلے، ارادے اور لکھے ہوئے مطابق ہوتی ہے—چاہے وہ خیر ہو یا شر، نفع ہو یا نقصان، زندگی ہو یا موت۔"

جواب

تقدیر پر ایمان سے مراد یہ یقین رکھنا ہے کہ

"ہر چیز اللہ کے علم، فیصلے، ارادے اور لکھے ہوئے مطابق ہوتی ہے—چاہے وہ خیر ہو یا شر، نفع ہو یا نقصان، زندگی ہو یا موت۔"

یہ ایمان کا چھٹا رکن ہے۔


دلیل: قرآن

ہر چیز اللہ نے پہلے سے لکھ دی ہے

(إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ )
(القمر: 49)
"ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔"

کوئی مصیبت اللہ کے لکھے بغیر نہیں آتی

( مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ )
(الحدید: 22)
"زمین یا تمہارے نفسوں میں کوئی مصیبت نہیں آتی مگر وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔"

انسان کی پیدائش سے پہلے مقدر لکھ دی گئی

( خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا )
(الفرقان: 2)
"اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کی تقدیر مقرر کی۔"


دلیل: حدیث

 ایمان کے چھ ارکان

جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا: ایمان کیا ہے؟

نبی ﷺ نے فرمایا:
"اللہ پر ایمان، اس کے فرشتوں پر، کتابوں پر، رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اور تقدیر کے خیر و شر پر ایمان۔"
صحیح مسلم

 ہر انسان کی تقدیر 40 دن کے بعد لکھ دی جاتی ہے

نبی ﷺ نے فرمایا

"فرشتہ آتا ہے اور چار چیزیں لکھتا ہے: رزق، عمر، عمل، اور وہ نیک ہوگا یا بد۔"
بخاری و مسلم

مزید دیکھیں

تازہ ترین سوالات